رجسٹر کے بجائے سافٹ ویئر پر حساب کتاب

کسی نے پانی کا کاروبار لاپروائی سے کھڑا نہیں کیا۔ رجسٹر نے یہاں تک پہنچایا ہے۔ بس وہ ہر رائیڈر اور ہر بیلنس ایک ساتھ نہیں سنبھال سکتا۔

صبح سویرے کھلا ہوا روٹ کا رجسٹر

رجسٹر اور AquaFlow، آمنے سامنے

اب تک

آج کام کیسے چلتا ہے

ڈیلیوری رجسٹر میں لکھی جاتی ہے۔ جھگڑا فون پر طے ہوتا ہے۔ ایک آدمی کو یاد رہتا ہے کس نے کتنا کیش دینا ہے اور کس دکان پر چار بوتلیں پڑی ہیں۔ یہ اس آدمی کی محنت سے چلتا ہے۔

AquaFlow کے ساتھ

AquaFlow کے ساتھ کیسے چلتا ہے

ڈیلیوری دروازے پر لوکیشن کے ساتھ مارک ہوتی ہے۔ بوتل کا تبادلہ کسٹمر سے جڑ جاتا ہے۔ کیش بیلنس پر لگ جاتا ہے۔ رات نو بجے کچھ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

پہلے ہفتے میں چار چیزیں بدل جاتی ہیں۔

01

بحث کی جگہ ثبوت

ہر ڈیلیوری کے ساتھ وہ لوکیشن ہوتی ہے جہاں وہ مارک ہوئی۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ سچ کون بول رہا ہے۔

02

بیلنس ادھر ادھر نہیں ہوتا

بقایا یعنی ڈیلیور شدہ مال منہا ڈپازٹ منہا کمی بیشی۔ رعایت یا ڈوبی رقم درج ہوتی ہے اور واپس بھی ہو سکتی ہے، مٹائی نہیں جاتی۔

03

ہر بوتل کا مالک

واپسی والی بوتلیں کسٹمر کے ساتھ جڑے تبادلے میں درج ہوتی ہیں۔ خالی بوتلیں کہاں ہیں، روٹ پر گئے بغیر پتا چل جاتا ہے۔

04

تنخواہ پر جھگڑا ختم

تنخواہ، فی ڈیلیوری کمیشن اور ایڈوانس تنخواہ کے حساب میں طے ہوتے ہیں۔ رائیڈر کو وہی حساب نظر آتا ہے جو آپ کو۔

تین باتیں جو سپلائر پہلے کہتے ہیں

میرے رائیڈر پڑھے لکھے نہیں ہیں۔

رائیڈر کی اسکرین چھوٹی ہے۔ روٹ کھولیں، ڈیلیوری مارک کریں، بوتل کا تبادلہ لکھیں۔ اردو میں ہے، اور رائیڈر کو صرف رائیڈر والی اسکرین ملتی ہے۔

روٹ پر انٹرنیٹ نہیں ہوتا۔

ایپ آف لائن چلتی ہے۔ کام فون میں انکرپٹڈ قطار میں رہتا ہے اور سگنل آتے ہی سنک ہو جاتا ہے۔ رائیڈر کا کام رکتا نہیں۔

ہم پہلے سے واٹس ایپ اور رجسٹر استعمال کرتے ہیں۔

دونوں رکھیں، کوئی حرج نہیں۔ مگر وہ بیلنس کا کل نہیں نکالتے، دروازے کا ثبوت نہیں دیتے، اور نہ بتاتے ہیں کہ پچھلے مہینے کس ایریا سے کتنا منافع ہوا۔

وہی دن، فون کالوں کے بغیر۔

مفت ٹرائل شروع کریں اور ایک ہفتہ ایک روٹ دونوں طریقوں سے چلائیں۔ رجسٹر اور ایپ کا فرق خود سامنے آ جائے گا۔

مفت ٹرائل شروع کریں
واٹس ایپ
رجسٹر کے بجائے سافٹ ویئر پر حساب کتاب | AquaFlow