
وصولی اور جمع الگ
رائیڈر نے کیا لیا اور دفتر کو کیا ملا، یہ دو الگ باتیں ہیں اور الگ ہی رہتی ہیں۔
رائیڈر روٹ پر روزانہ وصولی کرتا ہے، اکاؤنٹنٹ وہ کیش صحیح کسٹمر کے کھاتے میں ڈالتا ہے، اور دن کا حساب سب ملا دیتا ہے۔

کیش کسٹمر سے رائیڈر تک اور رائیڈر سے کیش باکس تک جاتا ہے۔ اسی راستے میں کہیں کاغذ ملنا چھوڑ دیتا ہے اور بحث شروع ہو جاتی ہے۔
رائیڈر کے پاس ایک حساب ہوتا ہے، رجسٹر میں دوسرا۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ فرق کس اسٹاپ پر پڑا۔
نوٹ کیش باکس میں آ جاتا ہے مگر کسی کسٹمر کے نام نہیں لگتا، اور کوئی خواہ مخواہ اُدھار میں رہ جاتا ہے۔
کسٹمر پوچھے کتنا باقی ہے تو جواب ہوتا ہے کہ دیکھ کر کل بتاتے ہیں۔
دروازے پر لیا گیا کیش وہیں درج ہوتا ہے، اسی کسٹمر کے نام جس نے دیا۔
دفتر کیش وصول کر کے اسی کسٹمر کے ڈپازٹ میں ڈالتا ہے، جس سے اس کا بقایا کم ہو جاتا ہے۔
روٹ پر جو وصول ہوا اور دفتر میں جو جمع ہوا، دونوں آمنے سامنے رکھے جاتے ہیں۔




رائیڈر نے کیا لیا اور دفتر کو کیا ملا، یہ دو الگ باتیں ہیں اور الگ ہی رہتی ہیں۔
ڈپازٹ کسی کسٹمر کے نام لگتا ہے، کوئی ادائیگی بغیر نام کے نہیں رہتی۔
بیلنس ہر کسٹمر کا الگ رہتا ہے، سب کو ملا کر ایک عدد نہیں بنایا جاتا۔
دن اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وصولی اور جمع آپس میں نہ ملا لی جائیں۔
غلط انٹری ریکارڈ میں ہی درست ہوتی ہے، اس لیے پورا سلسلہ محفوظ رہتا ہے۔
دن کا حساب روٹ کی وصولی اور دفتر میں جمع کیش کا فرق سامنے لے آتا ہے۔ فرق اسی رات نظر آ جاتا ہے، ہفتوں بعد نہیں۔
اکاؤنٹنٹ اسے ریکارڈ میں درست کر سکتا ہے، مٹا کر نہیں۔ غلطی اور اس کی تصحیح، دونوں نظر آتی رہتی ہیں۔
نہیں۔ ڈپازٹ اسی کسٹمر کا بقایا کم کرتا ہے اور اضافی کیش اسی کے نام رہتا ہے، اس لیے ایک گھر کا ایڈوانس دوسرے کا بقایا نہیں چھپاتا۔

اپنے رائیڈر، کسٹمر اور دن کا حساب ایک جگہ لے آئیں، اور یادداشت سے حساب ملانا چھوڑ دیں۔
مفت ٹرائل شروع کریں